Pages

Thursday, October 18, 2012

حدیث شریف مِثل قران ، کتاب اللہ تو نہیں ، لیکن وحی اللہ ہے

بِسّمِ اللہ الرّ حمٰنِ الرَّحیم

بِسّم اللہِ و الحَمدُ لِلَّہِ وحدہُ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلٰی مَن لا نَبی بَعدَہ ُ والذی لَم یَتکلم مِن تِلقاء نَفسہِ و لَم یَکن کَلامُہ اِلَّا مِن وَحی رَبہُ
اللہ کے نام سے آغاز ہے اور تمام سچی تعریف صرف اللہ کے لیے ہے اور اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو اُس پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں اور جس نے نفس کی خواہش کے مطابق بات نہیں کی اور جس کی بات سوائے اُس کے رب کی وحی کے اور کچھ نہ ہوتی تھی
::::: حدیث شریف مِثل قران ، کتاب اللہ تو نہیں ، لیکن وحی اللہ یقیناً ہے :::::

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
اللہ تبارک تعالیٰ کے عِلاوہ کوئی بھی کسی کا دِل بدلنے کی قدرت نہیں رکھتا ،ا ور صِرف اور صِرف وہی ہے جو کسی کو ہدایت قبول کرنے کی توفیق دے سکتا ہے اور اس ہدایت پر گامزن رکھ سکتا ہے ، اللہ جلّ و علا کی حِکمت اور مشیئت وہی جانتا ہے ، ہم لوگ صِرف اُس کی اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی دی ہوئی تعلیمات کے مطابق اُس کی حِکمت کا کچھ اندازہ کر سکتے ہیں ،
کچھ لوگ کتاب اللہ ، قران کریم کا عملی انکار کرتے ہوئے ، اِسی قران کریم میں دیے گئے اللہ پاک کے احکام کا عملی انکار کرتے ہوئے ، اللہ کے حبیب رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات مبارک سے دُشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تعلیمات کا انکار کرتے ہیں ، اور ان تعلیمات کو محض اپنی جہالت زدہ سوچوں کی بنا پر جو اُن لوگوں کے اُس نفس کی اتباع کا نتیجہ ہیں ، جو نفس اللہ کے ، اللہ کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ، اور اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر اِیمان رکھنے والوں کے دُشمن کا پیروکار ہے ،
ان لوگوں کے ظہور میں ، اور ان لوگوں کا اپنے خِلاف قران دعوؤں پر ضد کرتے رہنے میں اللہ تعالیٰ کی ایک حِکمت یہ بھی سُجھائی دیتی ہے کہ اِن لوگوں کی حرکات کے سبب اللہ تبارک و تعالیٰ بہت سے مسلمانوں کو اُن کے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مبارکہ کے اور زیادہ قریب کرتا ہے اور اُن کےاِس یقین میں اضافہ کرتا ہے کہ جو دِین کے معاملات کے بارے میں جو بھی کچھ اُس کے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا وہ حق ہے ، اوراللہ کی طرف سے وحی کے مطابق ہے ،
کتاب اللہ ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مخالفت کرنے والے لوگوں میں سے ایک نے اپنے ہی طور ایک سوال بنایا ، اور اپنے ہی طور اُس کا جواب بھی دِیا ، اور اُس جواب کی دلیل کے لیے ایک صحیح ثابت شدہ حدیث شریف کو کفار کی بنائی ہوئی بات لکھ دِیا ،
اُس شخص نے خود ساختہ سوال لکھا :::
کیا حدیث بھی مثل قران کتاب اللہ ہے ؟
اور پھر خود ساختہ جواب دِیا :::
ہاں حدیث بھی کتاب اللہ ہے ۔
اور سوال کے جواب کے طور پر ایک صحیح ثابت شدہ حدیث شریف کو نا قابل اعتماد جانتے ہوئے ، اور ناقابل اعتماد دِکھانے کے لیے وہ حدیث مُبارک ذِکر کی ،
ہو سکتا ہے کہ آپ صاحبان کے ذہن میں یہ سوال آئے کہ میں یہ کیسے کہہ رہا ہوں کہ اُس شخص نے اِس صحیح ثابت شدہ حدیث شریف کو ناقابل اعتماد سمجھا ہے ، اور ناقابل اعتماد سمجھانے کی کوشش کی ہے ،
اس کا ایک جواب تو اُس شخص کا خود ساختہ سوال اور خود ساختہ جواب ہے ،
اور دوسرا جواب اُس شخص کا لکھا ہوا یہ جملہ ہے کہ ‘‘‘‘‘کفار نے "قرآن کی مثل آیت" بنانے کے قرآنی چیلنج کا جواب "قرآن کی مثلہ معہ وحی غیر متلو حدیث" جھوٹی احادیث بنا کر دیا’’’’’’،
مسلمانوں کے اماموں کے بارے میں اس قِسم کی جھوٹی الزام تراشی ان لوگوں کی طرف سے کوئی نئی بات نہیں ، یہ مذکورہ بالا شرمناک جملہ درج ذیل لنک پر پڑھا جا سکتا ہے ،
http://goo.gl/GnE9E
اور تیسرا جواب اس شخص کی طرف سے کتاب اللہ قران کریم ، کا نام لے کر ، کتاب اللہ قران کریم کے ہی خِلاف چلتے ہوئے ، کتاب اللہ قران کریم میں دیے گئے احکام کا مسلسل عملی انکار کرتے ہوئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مُبارکہ کے خِلاف مسلسل خرافات نشر کرنا ، اور اُن خرافات کے بطان کے ثابت ہونے کے باوجود کسی بھی علمی دلیل کے بغیر اُن خرافات کی تائید کرنے کی مسلسل کوشش ہے،
قارئین کرام ، اُس شخص نے اپنے خود ساختہ سوال ، اور خود ساختہ جواب کی دلیل کے طور پر جو کچھ نسخ (کاپی پیسٹ )کیا ، وہ درج ذیل ہے :::
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
36 -
سنت کا بیان : (178)
سنت کو لازم پکڑنے کا بیان

حدثنا عبد الوهاب بن نجدة حدثنا أبو عمرو بن کثير بن دينار عن حريز بن عثمان عن عبد الرحمن بن أبي عوف عن المقدام بن معدي کرب عنرسول الله صلی الله عليه وسلم أنه قال ألا إني أوتيت الکتاب ومثله معهألا يوشک رجل شبعان علی أريکته يقول عليکم بهذا القرآن فما وجدتم فيه من حلال فأحلوه وما وجدتم فيه من حرام فحرموه ألا لا يحل لکم لحم الحمار الأهلي ولا کل ذي ناب من السبع ولا لقطة معاهد إلا أن يستغني عنها صاحبها ومن نزل بقوم فعليهم أن يقروه فإن لم يقروه فله أن يعقبهم بمثل قراه

سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1200 حدیث مرفوع مکررات 3
عبدالوہاب بن نجدہ، ابوعمر، بن کثیر بن دینار، جریر بن عثمان، عبدالرحمن بن ابی عوف، عبدالرحمن، ابوعوف، حضرت مقدام رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن معدیکرب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہآپ نے فرمایا کہ آگاہ رہوبے شک مجھے کتاب دی گئی ہے اور اس کے ساتھ اس کے مثل بھی دی گئی ہےخبردار قریب ہے کہ ایک پیٹ بھرا آدمی اپنے تکیہ سے ٹیک لگائے بیٹھا کہے گا کہ تمہارے ذمہ قرآن کو پکڑنا لازم ہے پس تم اس میں جو حلال پاؤ تو اسے حلال سمجھو اور جو اس میں تم حرام پاؤ تو اسے حرام سمجھو خبردار تمہارے لیے پالتو گدھا حلال نہیں ہے اور نہ ہی ہر وہ جانور درندوں میں سے چیڑنے پھاڑنے والے ہوں اور نہ ہی کسی ذمی کی گری پڑی چیز جائز ہے الایہ کہ اس کا مالک اس سے بے نیاز ہو اور جو شخص کسی قوم کا مہمان بن کراترے تو اس قوم والوں پر اس کی میزبانی کرنا ضروری ہے اور اگر وہ میزبانی نہیں کریں گے تو مہمان کے لیے اپنی میزبانی کے بقدران سے جبرا لینا جائز ہے (یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا اب نہیں ہے)۔

Narrated Al-Miqdam ibn Ma'dikarib:

The Prophet (peace_be_upon_him) said: Beware! I have been given the Qur'an and something like it, yet the time is coming when a man replete on his couch will say: Keep to the Qur'an; what you find in it to be permissible treat as permissible, and what you find in it to be prohibited treat as prohibited. Beware! The domestic ass, beasts of prey with fangs, a find belonging to confederate, unless its owner does not want it, are not permissible to you If anyone comes to some people, they must entertain him, but if they do not, he has a right to mulct them to an amount equivalent to his entertainment.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ مذکورہ بالا الفاظ درج ذیل ربط پر نشر کیے گئے ہیں :
میرے محترم قارئین بھائیو، اور بہنو،
ایک دفعہ پھر اللہ تعالیٰ نے ، اُس کی کتاب کے ، اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے مخالفین سے ہی اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صداقت کی گواہی مہیا کروا دی ، یعنی ، اُن مخالفین کے جھوٹے ہونے کی گواہی مہیا فرما دی ،
یہ جِس مذکورہ بالا حدیث شریف کو اِن صاحب نے اپنی رسول دُشمنی کے سبب غلط ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ، ایک اور جگہ میں تو اسے کفار کی کوشش کہہ چکے ہیں ، اِن شاء اللہ ابھی ثابت ہو گا کہ یہ حدیث شریف بالکل صحیح ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا ہی فرمان مبارک ہے ، اور کسی کافر کی بنائی ہوئی بات نہیں ، بلکہ جو لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں وہ اِس حدیث کے کافر ہیں ، اور جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے کسی بھی فرمان کا کافر ہو وہ بلا محالہ اللہ کے فرامین کا کافر ہو جاتا ہے ،
قارئین کرام ، یہ مذکورہ بالا حدیث شریف ، تین حصوں پر مشتمل ہے،
پہلا حصہ ایک خبر ہے ، دوسرا حصہ ایک خبر ہے ، اور تیسرا حصہ کچھ احکام پر مشتمل ہے ،

اور الحمد للہ تینوں ہی حصے ہمارے حق میں حجت ہیں ، اور تینوں ہی حصے کتاب اللہ کے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے مخالفین کے خلاف حجت ہیں ،
قارئین کرام ، آیے حدیث شریف کا تدبر کے ساتھ مطالعہ کرتے ہیں ،
::::::: حدیث شریف کے پہلے حصے میں درج ذیل خبر ہے جو ان لوگوں کے لیے قابل قبول نہیں ،
((((((أَلاَ إِنِّى أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ::: خبردار رہو یاد رکھو ، کہ یقیناً مجھے قران بھی دیا گیا ہے ،اور اُس کے ساتھ ، اُس ہی کی طرح بھی )))))،
یہ خبر ان لوگوں کے لیے اس لیے قابل قبول نہیں کہ اِس کے بعد والی، دوسرے حصے والی خبر میں ، جو کچھ بتا دیا گیا ہے وہ بعینہ اِن لوگوں کی حالت ہے ، فرمایا گیا ہے :::
((((((أَلاَ يُوشِكُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلَى أَرِيكَتِهِ يَقُولُ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْقُرْآنِ فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلاَلٍ فَأَحِلُّوهُ وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ:::خبردار رہو یاد رکھو ، کہ قریب ہی ہے کہ (تُم لوگ ) ایسا شخص (پاؤ)گے جو بھرے پیٹ کی حالت میں اپنی نشت گاہ پر ٹیک لگائے ہو گااور کہے گا ، تُم لوگوں پر قران کی پیروی کرنا فرض ہے ، لہذا تُم لوگ جو کچھ قران میں حلال پاتے ہو اُسے حلال قرار دو ، اور جو کچھ قران میں حرام پاتے ہو اُسے حرام قرار دو)))))
جی ، محترم قارئین ، غور فرمایے ،حدیث شریف کے مذکورہ بالا ، دوسرے حصے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زبان مبارک سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک ایسی خبر ادا کروائی ہے ، جو قران کریم میں مذکور نہیں، اور بالکل سچ ہے ، جِس کی سچائی کی گواہیوں کے لیے ہمیں کہیں دُور جانے کی ضرورت نہیں ، حدیث شریف پر اعتراض کرنے والے شخص ، اور اِس کے ہم مذھب لوگوں کے سارے ہی دعوے اس حدیث شریف میں دی گئی اِس مذکورہ بالا دوسری خبر کی سچائی کی گواہیاں ہیں ، کیونکہ یہ خبر بالکل اِن کی حالت زار کو بیان کرتی ہے ، یہ مالی اور معاشرتی خوش حالی کے حال میں اپنی نشست گاہوں میں بیٹھ کر بالکل وہی کچھ کہہ رہے ہیں جو کچھ اس خبر میں بیان ہوا ہے ،
ذرا اِن صاحب ، اور ان کے ہم مذھب بڑوں چھوٹوں سے پوچھیے گا کہ اگر یہ حدیث کسی خود بنائی ہے تو وہ کیسا شخص تھا جس نے صدیوں بعد ہونے والی باطل حرکات کی بالکل ٹھیک ٹھیک خبر دے دی ؟؟؟
کوئی نبی تھا ؟؟؟ یا کوئی رسول تھا ؟؟؟ کیونکہ مستقبل کی سچی خبر تو صِرف اللہ ہی طرف سے ہوسکتی ہے ، اور اللہ کی خبریں بصورت وحی صِرف اُس کے نبیوں اور رسولوں علیہم السلام کی طرف آیا کرتی تھیں ،
اِس صحیح ثابت شدہ حدیث مبارک پر اعتراض وارد کرنے والے ، اس کا انکار کرنے والے ، اِسے کفار کی بنائی ہوئی بات کہنے والے کا مبلغ عِلم چند اُردُو الفاظ کے محدود معانی تک محدود ہے ، جس طرح اسے نیت ، اور اِرادہ سمجھنے میں غلطی ہورہی ہے ، اور لفظ حدیث اور حدیث ء رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سمجھنے میں غلطی ہو رہی ہے ، اُسی طرح اِسے لفظ ‘‘‘ مِثل ’’’ سمجھنے میں بھی غلطی ہو رہی ہے ، اور یہ شخص لفظ ‘‘‘مِثل ’’’ کو بمعنی ‘‘‘ ہو بہو وہی چیز ’’’ سمجھ رہا ہے ،
قران فہمی کا دعویٰ رکھنے والوں کو کم از کم اس بات کی سمجھ تو ہونی چاہیے کہ لفظ ‘‘‘ مِثل ’’’ قران حکیم میں ہی کون کون سی معانی میں استعمال فرمایا گیا ہے ؟؟؟
اور انہی معانی میں سے کو ن سا معنی اور مفہوم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اِس حق سچ فرمان ((((((أَلاَ إِنِّى أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ::: خبردار رہو یاد رکھو ، کہ یقیناً مجھے قران بھی دیا گیا ہے ،اور اُس کے ساتھ ، اُس ہی کی طرح بھی )))))میں بیان ہوا ہے ؟؟؟
لیکن ،،،،، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ، جِسے چاہتا ہے اُسے درست سمجھ دیتا ہے اور جِسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے ، پس اسے اور اس کے ہم مذھب لوگوں کو اللہ نے اُس کے اپنے کلام اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آ لہ وسلم کے کلام کی وہ سمجھ نہیں دی جو متکلم کی مُراد ہے ،
قارئین کرام ، اب چلتے ہیں اِس حدیث شریف کے تیسرے حصے کی طرف جو کہ پہلے حصے کی شرح اور تفیسر ہے ، جو کہ((((((مِثْلَهُ::: اُس ہی کی طرح)))))کی شرح اور تفسیر ہے ،
جی ہاں ، ایسا ہی ہے ،
تیسرے حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا ہے (((((أَلاَ لاَ يَحِلُّ لَكُمْ لَحْمُ الْحِمَارِ الأَهْلِىِّ وَلاَ كُلُّ ذِى نَابٍ مِنَ السَّبُعِ وَلاَ لُقَطَةُ مُعَاهِدٍ إِلاَّ أَنْ يَسْتَغْنِىَ عَنْهَا صَاحِبُهَا وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَعَلَيْهِمْ أَنْ يَقْرُوهُ فَإِنْ لَمْ يَقْرُوهُ فَلَهُ أَنْ يُعْقِبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ:::خبردار رہو یاد رکھو ،تُم لوگوں کے لیے گھریلو پالتو گدھے کا گوشت حلال نہیں ہے ، اور نہ ہی پھاڑ کھانے والا درندہ حلا ل ہے ،اور نہ ہی کسی ذمی کی کوئی گری پڑی چیز لے لینا حلال ہے ، جب تک کہ وہ ذمی خوداُس چیز سے بے نیازی کا اظہار کر دے ، اور جو کوئی(مُسافر ، مہمان ) کسی قوم کے پاس پہنچے تو اُس قوم پر فرض ہے کہ وہ اُس کی مہمان داری کرے ، اور اگر وہ قوم اُس کی مہمان داری نہ کرے تو وہ (مسافر، مہمان )شخص اُس قوم کے اموال میں سے اپنی مہمان داری کے برابر(عوض ، بدلہ ، مال وغیرہ) بلا اجازت لے سکتا ہے )))))
اس فرمان مبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے کچھ ایسی چیزیں حرام قرار دی ہیں جو کہ قران کریم میں مذکور نہیں ہیں ، اور یہ ((((((مِثْلَهُ:::اُس ہی کی طرح)))))کی شرح اور تفسیر ہے کہ قران حکیم کی طرح ، لیکن قران حکیم سے الگ مجھے دیگر احکام بھی دیے گئے ہیں اور انہی احکام کے مطابق میں تم لوگوں کو بتا رہا ہوں کہ (((((خبردار رہو یاد رکھو ،تُم لوگوں کے لیے گھریلو پالتو گدھے کا گوشت حلال نہیں ہے ، اور نہ ہی ناخنوں والا خونخوار درندہ حلا ل ہے ،اور نہ ہی کسی ذمی کی کوئی گری پڑی چیز لے لینا حلال ہے ، جب تک کہ وہ ذمی خوداُس چیز سے بے نیازی کا اظہار کر دے ، اور جو کوئی(مُسافر ، مہمان ) کسی قوم کے پاس پہنچے تو اُس قوم پر فرض ہے کہ وہ اُس کی مہمان داری کرے ، اور اگر وہ قوم اُس کی مہمان داری نہ کرے تو وہ (مسافر، مہمان )شخص اُس قوم کے اموال میں سے اپنی مہمان داری کے برابر(عوض ، بدلہ ، مال وغیرہ)بلا اجازت لے سکتا ہے )))))،
اب اگر کسی کو لفظ ‘‘‘ مِثل ’’’ سمجھنے میں غلطی ہو رہی ہے ، اور وہ شخص لفظ ‘‘‘مِثل ’’’ کو بمعنی ‘‘‘ ہو بہو وہی چیز ’’’ سمجھ رہا ہے ، تو یہ اُس کے علم و عقل کی کمی و کمزوری کی دلیل ہے نہ کہ معاذ اللہ صحیح ثابت شدہ حدیث شریف میں عیب ،
ویسے چلتے چلتے ذرا اِن سے یہ بھی پوچھتے چلتے ہیں کہ اگر یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اِس صحیح ثابت شدہ حدیث شریف کو درست نہیں مانتے ، تو کیا جو چیزیں اس حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے حرام قرار دی ہیں ، یہ لوگ اُن چیزوں کو حلال مانتے ہیں ؟؟؟؟؟
میرے محترم قارئین ، بھائیو اور بہنو، اِس صحیح ثابت شدہ حدیث شریف میں مذکور حلا ل و حرام کے صِرف یہ ہی ایسے احکام نہیں ہیں جو کہ قران حکیم میں مذکور نہیں ، بلکہ معاملات اور عقائد کے بارے میں اور بھی بہت سے احکام ایسے ہیں جو قران حکیم میں مذکور نہیں ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے ہیں ، وہ سب احکام اور تعلیمات ((((((مِثْلَهُ:::اُس ہی کی طرح)))))میں سے ہیں ، اور (((((وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰOإِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى:::اور وہ (محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم)اپنی خواہش کی پیروی کے مطابق بات نہیں کرتے O (بلکہ)بے شک اُن کی بات تو صِرف وحی ہے ہے جو اُن کی طرف کی جاتی ہے )))))کے عین مصداق ہیں ،اور عملی ثبوت ہیں ،
کتاب اللہ ، قران کریم کا عملی انکار کرنے والوں ، اِسی قران کریم میں دیے گئے اللہ پاک کے احکام کا عملی انکار کرتے ہوئے ، اللہ کے حبیب رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات مبارک سے دُشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تعلیمات کا انکار کرنے والوں سے اس ضمن میں کئی سوال کیے جا سکتے ہیں ، لیکن صرف آپ صاحبان کے سامنے ان لوگوں کے مذھب و مسلک اور عقل و فہم کی تِیرگی نمایاں کرنے کے لیے ، نطور نمونہ فی الوقت صرف تین سوال یہاں پیش کرتا ہوں ، اور اللہ سُبحانہ ُو تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے ان لوگوں تحدی (چیلنج)دیتا ہوں کہ یہ سب لوگ اکٹھے ہو کر ان کا جواب دیں ،اور اللہ جلّ جلالہ ُ پر ہی توکل کرتے ہوئے یہ بھی کہتا ہوں کہ اِن شاء اللہ یہ لوگ کبھی بھی ان کے جواب نہیں دے سکتے ،
::::::: اللہ تبارک و تعالیٰ نے قران حکیم میں زکوۃ ادا کرنے کا بہت ہی زیادہ دفعہ حکم فرمایا ہے ، کیا ان لوگوں میں سے کوئی مجھے قران حکیم میں سے یہ بتا سکتا ہے کہ انسانی زندگی میں استعمال ہونے والے، اور جمع کر کے رکھے جانے والے مختلف اموال کی زکوۃ کا نصاب کتنا ہے ؟؟؟
::::::: اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ نے قران کریم میں حکم فرمایا ہے کہ چوری کرنے والا کا ہاتھ کاٹ دیا جائے ، کیا اِن لوگوں میں کوئی مجھے قران کریم میں سے یہ بتا سکتا ہے کہ کتنے مال کی چوری پر ہاتھ کاٹا جانا چاہیے ؟؟؟
اور کونسا ہاتھ کاٹا جانا چاہیے ؟؟؟
اور کہاں سے کاٹا جانا چاہیے ؟؟؟
::::::: اللہ جلّ و علا نے پاکیزگی اختیار کرنے کے احکام میں ، پانی نہ ملنے کی صُورت میں صاف مٹی سے تیمم کرنے کا حکم فرمایا ہے ،
کیا اِن لوگوں میں سے کوئی مجھے قران کریم میں سے یہ بتا سکتا ہے کہ یہ تیمم کیسے کیا جانا چاہیے ؟؟؟ کیا صاف مٹی کو ہاتھوں اور چہرے پر مل لیا جانا چاہیے ؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر میں ایک اور لطیف نکتے کی طرف بھی آپ کی توجہ مبذول کرواتا چلوں ، جو اِس بات کی دلیل ہے کہ یہ شخص صِرف کاپی پیسٹ کرنا جانتا ہے ، لیکن اسے اتنا پتہ نہیں ہوتا کہ کیا کاپی پیسٹ کر رہا ہے ، بس اسے ایک ھدف دِیا گیا ہے جِسے پورا کرنے کے لیے وہ کسی سمجھ کے بغیر دیا گیا مواد اِدھر اُدھر پیسٹ کرتا ہے ،
الحمد للہ ، اِس کا ایک ثبوت پہلے بھی ‘‘‘‘‘ہجرت کی ممانعت والی حدیث پر اعتراضات کا جائزہ،اور"انما الاعمال"والی حدیث پر اعتراضات کامزید جائزہ’’’’’ نامی مضمون کے مراسلے رقم 3میں مہیا کر چکا ہوں ،
اُس مضمون کا ربط درج ذیل ہے :
http://bit.ly/SUMTZH
جو کچھ وہاں کیا گیا ہے ، ویسا ہی یہاں، اِس وقت زیر مطالعہ حدیث شریف سے متعلق ، اِس شخص کی طرف سے پیسٹ کیے ہوئے منقولہ بالا مواد میں ہے ،
اِ س شخص نے جو اُردُو ترجمہ پیسٹ کیا ، اُس کی غلطیوں سے صرف نظر کرتےہوئے ، آپ یہ دیکھیے کہ جو انگلش ترجمہ پیسٹ کیا گیا ہے وہ اُردو ترجمے کے مطابق نہیں، اور اِس شخص کو یہ بھی ہوش نہیں کہ وہ دو الگ الگ زبانوں میں پیسٹ کرنے کے چاؤ میں اپنی ہی بات کی تردید پیسٹ کر گیا ،
جی ہاں قارئین کرام ، اس کا پیسٹ کیا ہوا اُردُو ترجمہ درج ذیل ہے :::
کہ آگاہ رہوبے شک مجھے کتاب دی گئی ہے اور اس کے ساتھ اس کے مثل بھی دی گئی ہے
اور انگلش ترجمہ درج ذیل ہے :::
Beware! I have been given the Qur'an and something like it
آپ غور فرمایے کہ ، یہ انگلش ترجمہ اُردُو ترجمے کی نسبت حقیقت کے کہیں زیادہ قریب ہے ، کیونکہ اُردُو ترجمے میں تو ‘‘‘ مِثل ’’’ کا ترجمہ کیا ہی نہیں گیا ، اللہ جانے یہ ترجمان کی کمزوری ہے ، یا پیسٹ کرنے والے کی کاروائی کہ اُس نے اُس لفظ کو جُوں کا تُوں رکھا جِس لفظ کو بنیاد بنا کر وہ حدیث شریف کا انکار کر رہا ہے ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر اُس شخص کے لیے جِسے اللہ نے صحت مند اور راہ راست پر رہنے والی عقل عطاء کر رکھی ہے ، اِن شاء اللہ ، یہ مذکورہ بالا معلومات یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہوں گی کہ کتاب اللہ قران کریم کا عملی انکار کرنے والوں ، اِسی قران کریم میں دیے گئے اللہ پاک کے احکام کا عملی انکار کرتے ہوئے ، اللہ کے حبیب رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات مبارک سے دُشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تعلیمات کا انکار کرنے والوں کی باتیں سراسر جہالت اور دھوکہ دہی پر مبنی ہوتی ہیں ،
اللہ تبارک وتعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دینے پر قادر ہے ، میں تو یہی دعا کرتا ہوں کہ اللہ انہیں ہدایت دے اور اگر اللہ کی مشیئت میں ان کے لیے ہدایت نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی ساری ہی مخلوق کو ان لوگوں کے شر سے محفوظ کر دے ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے سابقہ بہت سے تھریڈز اور مراسلات والا پیغام یہاں بھی دے رہا ہوں کہ محترم قارئین کرام میں سے جو کوئی بھی اِسلامی علوم کے مطابق کسی علمی دلیل کے ساتھ ، میرے یا کسی کے بھی الفاظ کاپی پیسٹ کیے بغیر ، میرے یا کسی کے بھی الفاظ چوری کر کے اور اُن میں تحریف کیے بغیر ، اور انسانوں کی سمجھ میں آ سکنے والے ، اسلامی آداب کے مطابق مہذب و مؤدب انداز میں بات کرنا چاہے اُسے میں خوش آمدید کہتا ہوں ، اور جو کوئی خود کو محترمین کی صف میں نہیں سمجھتا اور میری طرف سے مذکورہ بالا مطلوبہ صِفات کے بغیر کچھ لکھتا ہے تو اس سے گذارش ہے کہ میرا تھریڈ گندہ نہ کرے ،
اور اپنے تمام محترم قارئین کرام سے معذرت خواہ بھی ہوں کہ ان لوگوں کے بارے میں کچھ لکھتے ہوئے میں اپنے معمول کے انداز گفتار سے ہٹا رہتا ہوں ، اِس کے اسباب میں پہلے ذِکر کر چکا ہوں ،
آپ سب لوگ یہ سمجھتے ہوں گے کہ ایک عرصہ تک میں نے ان لوگوں کے ساتھ بھائیوں کی طرح محبت اور لجاجت سے بات چیت کی ، لیکن ان لوگوں کے منفی رویوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ، پس جب اُن لوگوں کی بات چیت میں سے وہ اسباب رخصت ہوجائیں گے اور وہ لوگ اپنی سابقہ باتوں کے بارے میں معذرت کر لیں گے تو اِن شاء اللہ میرا انداز بھی تبدیل ہوجائےگا، والسلام علیکم۔


No comments:

Post a Comment