Pages

Wednesday, July 3, 2013

:::::::: رمضان سے متعکق چند اہم فتوی جات :::::::









✽✽✽ رمضان سے متعلق چند فتاویٰ  ✽✽✽


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ        


و
الصَّلاۃُ والسَّلامُ عَلیٰ رَسولہ ِ الکریم مُحمدٍ و عَلیَ آلہِ وَأصحابہِ
وَأزواجِہِ وَ مَن تَبِعَھُم بِاِحسانٍ إِلٰی یَومِ الدِین ، أما بَعد :::


۹         آنکھوں
اور کانوں میں ڈالے جانے والےقطرات، اور مُنہ میں چھڑکنے والی ادویات کا حُکم
۹   


اگر ناک میں ڈالے جانے
والی دوا  یا پانی وغیرہ کا قطرہ پیٹ میں
جا پہنچے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے ، اس کی دلیل لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ ُ کی روایت
کردہ یہ حدیث شریف ہے کہ
﴿بَالِغْ
فِى الاِسْتِنْشَاقِ إِلاَّ أَنْ تَكُونَ صَائِمًا
:::(وضوء کے
دوران)ناک میں پانی چڑھاکر نکالنے میں خوب تکلف
کرو  مگر روزے کی حالت میں
(ایسا
)نہیں کرنا
سُنن
ابو داؤد/حدیث
2368/کتاب
الصوم/باب
27،
اِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے ،


لہذا روزہ دار کے لیے یہ
جائز نہیں کہ وہ اپنے ناک میں ایسا کچھ ڈالے جو اس کے معدے تک جا پہنچے ،
اس کے علاوہ جو قطرات ناک میں ڈالنے سے معدے تک نہ پہنچیں انہیں روزے کی حالت
میں  بوقت ضرورت استعمال کیا جا سکتا ہے،


رہا
معاملہ آنکھ میں ڈالے جانے والے قطرات کا تو وہ سُرمے کی طرح ہی ہیں (یعنی ان کا
شرعی حُکم سُرمہ ڈالنے کے جیسا ہے کہ ان کے استعمال سے روزے کی صحت پر کوئی فرق
نہیں پڑتا )، اور کان میں ڈالے جانے والے قطرات کا معاملہ بھی اسی طرح ہے کہ ان کے
ڈالنے سے روزہ ٹوٹتا نہیں برقرار ہی رہتا ہے ، کیونکہ اس کے استعمال سے روزے کے
ٹوٹنے کے بارے میں کوئی منصوص خبر نہیں ہے اور نہ ہی کسی منصوص خبر پر قیاس کر کے
اس کے بارے میں ایسا کوئی حکم ملتا ہے ،


یوں
بھی تجرباتی ، مشاہداتی اور علمی طور پر یہ بات بالکل واضح ہے کہ آنکھ اور کان
کھانے پینے کے داخلے کے مقامات نہیں ہیں ، بلکہ جِسم کے دیگر مسامات کی طرح مسام
ہیں (یعنی جِسم میں ایسے سوراخ جن میں داخل ہونے والی چیز جسم کے اندر نہیں جا
پاتی بلکہ انہی سوراخوں تک محدود رہتی ہے )


اہل
عِلم کا کہنا ہے کہ اگر کسی روزہ دار کے پاؤں سے کوئی چیز لگے اور وہ اس چیز کا
ذائقہ اپنے حلق میں محسوس کرے تو اس سے اس کا روزہ ٹوٹ نہیں جاتا ، کیونکہ یقینی
طور پر پاؤں کے مسام کھانے پینے کے مداخل نہیں ہیں (یہ احساس محض نفسیاتی ہوتا ہے
حقیقت میں اس چیز کا ، یا اس کے کسی جُز کا حلق تک پہنچنا محال ہے) اسی طرح آنکھ
اور کان بھی کھانے پینے کے مداخل نہیں ہیں لہذا اگر ان میں ڈالے جانے والے قطرات
کی بنا پر حلق میں کوئی ذائقہ محسوس ہو تو بھی اس سے روزے کی درستگی پر کچھ اثر
نہیں ہوتا ، جیسا کہ بعض  سُرمے ایسے ہوتے
ہیں جنہیں استعمال کرنے کے بعد حلق میں کچھ ذائقہ محسوس ہونے لگتا ہے ، لیکن کبھی
سُرمہ استعمال کرنے میں اس عِلت کی بنا پر اسے روزے کے فاسد ہونے کا سبب نہیں کہا
گیا ،


 اگر بفرض محال یہ مان بھی لیا جائے کہ ان قطرات
کی تاثیر حلق تک پہنچتی ہے تو بھی اس کا معدے تک خوارک کی طرح پہنچا ایک غیر ثابت
شدہ امر ہے اور ایسے شکوک کی بنا پر روزے کے فاسد ہوجانے کی بات نہیں کی جا سکتی ،


یہی
معاملہ جسم کے کسی حصے پر کسی چیز کی مالش کرنے کا ہےکہ اس سے بھی روزے کی صحت پر
کچھ اثر نہیں پڑتا ، خواہ یہ مالش کسی علاج 
کی غرض سے کی جائے یا بغیر  علاج کی
غرض سے ،


اور
اسی طرح سانس کی روکاٹ دُور کرنے والی ادویات کا معاملہ ہے جو منہ میں چھڑکی (سپرے
کی) جاتی ہیں ، کہ ان کی بخارات بھی کچھ معمولی سے مقدار میں زیادہ سے زیادہ  حلق تک ہی پہنچتے ہیں ،معدے تک نہیں ، اور یُوں
یہ خوراک میں شامل نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی طور کسی خوراک کا بدل ہو کر جسمانی
تقویت کا سبب  ہوتا ہے ، لہذا بوقتء
ضرورت  اس قِسم کی ادویات کا استعمال بھی
روزے کی صحت اور درستگی میں کسی کمی کا سبب نہیں ہوتا ۔  


۹         روزے
کی حالت میں ٹھنڈک کے لیے  سر یا کپڑوں پر
پانی ڈالنے کا حُکم
۹   


روزے کی حالت میں گرمی اور  پیاس وغیرہ کی شدت میں کمی کے لیے سر اور کپڑوں
پر پانی ڈالنے میں کوئی حرج نہیں اور اس کی کوئی ممانعت نہیں ، کیونکہ ان میں
پہلا  عمل سنتء رسول صلی اللہ علیہ و علی
آلہ وسلم میں ثابت شدہ ہے، جیسا کہ روایت  ہے کہ
﴿رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِالْعَرْجِ يَصُبُّ
عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ وَهُوَ صَائِمٌ مِنَ الْعَطَشِ أَوْ مِنَ الْحَرِّ
:::میں نے عرج کے مُقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ
وسلم کو دیکھا کہ وہ روزے کی حالت میں تھے اور گرمی یا پیاس کی شدت کی وجہ سے اپنے
سر
( مُبارک )پر پانی بہا رہے تھے
سنن
ابو داؤد/کتاب الصوم/حدیث
2367 /باب27، اِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے ،


 اور دوسرے عمل یعنی کپڑوں پر پانی بہانے کے بارے
میں  عبداللہ ابن عُمر رضی اللہ عنہما سے
ثابت ہے کہ وہ  روزے کی حالت میں اپنے
اوپرگرمی کی شدت  میں کمی کے لیے  کسی کپڑے کو پانی سے بھگو کر اپنے اوپر ڈال لیا
کرتے تھے(صحیح البخاری /کتاب الصوم/باب
25، کے عنوان میں تعلیقاً مذکور ہے) لہذا روزہ دار
کے لیے یہ دونوں  کام  جائز ہیں اور ان کے کرنے سے اس کے روزے کی
درستگی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی ۔
 


۹         روزے
کی حالت میں مسواک کرنے اور دانت صاف کرنے والی معجون(ٹوتھ پیسٹ) استعمال کرنے  کا حُکم
۹   


روزے
کی حالت میں مسواک کرنا بالکل درست عمل ہے ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی
آلہ وسلم کی سُنّت مُبارکہ سے ثابت ہے ،(صحیح البخاری /کتاب الصوم/باب
27)، اور اسی کے مطابق ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنا بھی جائز ہے
، لیکن روزہ دار کو اس بات کا خُوب خیال رکھنا چاہیے کہ ٹوتھ پیسٹ وغیرہ اس کے
معدے میں نہ جا پہنچے ۔ 


۹         اذان
کے جواب دینے کا کیا حُکم ہے اور کیا افطار کے وقت مغرب کی اذان کا جواب دینا افضل
ہے یا افطار کرنے میں جلدی کرنا ؟
۹   


اذان
کا جواب دینے کی شرعی حیثیت میں عُلماء کرام میں اختلاف رہا ہے ، سب کی آراء کی روشنی
میں  جمہور عُلماء کی یہ بات دُرست ہے کہ
اذان میں مؤذن کے کہے گئے کلمات کا جواب دینا مستحب ہے ، واجب نہیں ، مالکی ،
شافعی اور حنبلی عُلماء کا یہی کہنا ہے ،


 مؤطا مالک میں ثعلبہ بن ابی مالک القرظی
رحمہُ  اللہ سے روایت ہے کہ """وہ لوگ امیر المؤمنین عمر ابن الخطاب رضی
اللہ عنہما کے دور خلافت میں جمعہ کی نماز کے لیے جب مسجد میں ہوتے اور امیر
المؤمنین رضی اللہ عنہ ُ جب  منبر پر تشریف
فرما ہوتے اور مؤذن اذان کہتے تو ہم لوگ آپس میں بات چیت کرتے رہتے ، اور جب مؤذن
خاموش ہو جاتے تو اور امیر المؤمنین خطبہ فرمانا شروع کرتے تو ہم لوگ بالکل خاموش
ہو جاتے اور ہم میں سے کوئی بھی کچھ بات نہ کرتا """


اس
روایت کے راوی ابن شھاب رحمہُ اللہ کا کہنا ہے کہ """
(جمعہ کی نماز کے وقت )اِمام کا(مسجد یا نماز گاہ میں ) آ جانا نماز کو ختم کر
دیتا ہے اور اُس کا خطبہ شروع کرنا (حاضرین کی باہمی )بات چیت کرنے کو ختم کر دیتا
ہے """


امام
الالبانی رحمہُ اللہ کا فرمان ہے کہ """اس روایت میں اذان کے جواب
دینے کے واجب نہ ہونے کی دلیل ہے  کیونکہ
یہ عمل امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ ُ کے دور میں ان کے سامنے ہوتا رہا اور
انہوں نے اس سے منع نہیں فرمایا (اگر اذان کا جواب دینا واجب ہوتا تو امیر
المؤمنین رضی اللہ عنہ ُ اذان کے دوران بات چیت کرنے والوں کو یقیناً منع فرما
دیتے )مجھ سے جب بھی یہ پوچھا جاتا ہے کہ اذان کے جواب دینے کے حکم کو وجوب سے
ہٹانے کی کیا دلیل ہے تو میں یہ روایت پیش کرتا ہوں """
تمام
المنۃ
/صفحہ 340،


لہذااگر
کوئی اذان کا جواب نہیں اس پر کوئی گُناہ نہیں ، کیونکہ اس نے کسی  واجب پر عمل ترک نہیں کیا ، جی ہاں یہ ضرور ہے
کہ اذان کا جواب دینے کا جو عظیم اجر ہے وہ شخص اُس سے محروم ہو جائے گا ،


رہا
معاملہ مغرب کی اذان کا جواب دینے اور افطار کرنے میں جلدی کرنے میں کسی ایک کام
کے افضل ہونے کا تو اس کا بہترین جواب یہ ہے کہ دونوں کاموں کی افضلیت اپنی اپنی
جگہ ہے اور ان دونوں کاموں کو بیک وقت کیا جا سکتا ہے ، وہ اس طرح کہ جوں ہی اذان
کا آغاز ہو افطار کر لیا جائے اور افطار کرتے ہوئے درمیان میں رک رک کر مؤذن کے
کلمات پر جواب دیا جائے ، ان شا اللہ اس طرح دونوں فضیلتیں جمع کی جا سکتی ہیں،
افطار کرنے میں جلدی کی فضیلت اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت ۔


اللہ
تبارک وتعالی ہم سب کو یہ باتیں  سمجھنے
اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ،


والسلام
علیکم ، طلبگار دُعاء، آپ کا بھائی ، عادل سہیل ظفر۔


اِس
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر میسر ہے :






No comments:

Post a Comment