Pages

Sunday, October 13, 2013

::::::: أِسلام اور اِیمان میں فرق،اور اِحسان کیا ہے؟ :::::::


سمِ اللہِ و الحَمدُ لِلَّہِ وَحدہُ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلَی مَن لَا نَبیَّ بَعدہُ


اللہ کے نام سے آغاز ہے اور تمام سچی تعریف
صرف  اللہ کے لیے ہے اور اللہ کی رحمت اور
سلامتی ہو اُس پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں


::::::: أِسلام اور اِیمان میں
فرق،اور اِحسان کیا ہے؟ :::::::


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دوسرے بلا فصل خلیفہ  أمیر المؤمنین عُمرالفاروق رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہُ کا فرمانا ہے کہ ایک دِن ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ ایک شخص آیا ، جِس کےکپڑے بہت  ہی زیادہ سُفید تھے اور بالبہت  ہی زیادہ  کالے ، اور اُس (کے حلیے اور شخصیت ) پر سفر کےکوئی آثار دِکھائی نہ دیتے تھے ، اور ہم میں سے کوئی بھی اُسے نہیں جانتا تھا (کہوہ کون ہے)،
وہ شخص (انتہائے ادب کا مظاہرہ کرتے ہوئے)رسولاللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے بہت قریب پہنچ کر(انتہائے ادب کا مظاہرہکرتے ہوئے) اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے سامنے  دوزانو ں ہو کر بیٹھ گیا، اپنے گھٹنے اُن صلیاللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے مُبارک گھٹنوں کے ساتھ جوڑ دیے اور اپنے دونوں ہاتھاُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی رانوں مُبارک پر رکھ دیے اور سوال پیش کیا ،"" يَا مُحَمَّدُأَخْبِرْنِى عَنِ الإِسْلاَمِ ؟ :::  اے مُحمد مجھے اِسلام کے بارے میں بتایے؟ """

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نےجواباً اِرشاد فرمایا (((((الإِسْلاَمُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّاللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَتُقِيمَ الصَّلاَةَ وَتُؤْتِىَ الزَّكَاةَوَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلاً  :::   اِسلام یہ ہے کہ کہ تُم اِس بات کی گواہی دو کہ اللہ کےعِلاو کوئی سچا اور حقیقی معبود نہیں ہے اور یہ کہ مُحمد اللہ کے رسول ہیں ، اور
نماز ادا کرو ، اور زکوۃ ادا کرو ، اور رمضان کے رووزے رکھو، اور اگر (اللہ کے) گھر (کعبہ) تک پہنچنے کیطاقت رکھتے ہو تو اُس کا حج کرو )))))

اُس شخص نے  کہا """ آپ نے سچ فرمایا """،ہمیں اس بات پر بڑی حیرانگی ہوئی کہ یہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے سوالکر کے اُن کے دیے ہوئے جواب کی تصدیق بھی کر رہا ہے (گویا کہ وہ جواب جانتا ہے ،تو پوچھ ہی کیوں رہا ہے )

اور (پھر)  اُس شخص نے (دوسرا سوال پیشکرتے ہوئے )کہا """ فَأَخْبِرْنِى عَنِ الإِيمَانِ؟ ::: مجھے اِیمان کے بارے میں بتایے؟ """

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نےجواباً اِرشاد فرمایا (((((أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِوَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ ::: (اِیمان یہ ہے ) کہ تُم اللہ پر ،اور(اللہ کے ) فرشتوں پر، اور (اللہکی ) کتابوں پر ، اور آخرت کے دِن پر اِیمان رکھواور تقدیر کا(اللہ کی طرف سے ) خیر والی اور شر والی ہونے پر اِیمان رکھو)))))،
اُس شخص نے  کہا """ آپ نے سچ فرمایا """،اور (پھر)اُس شخص نے (تیسرا سوال پیش)کیا """      فَأَخْبِرْنِى عَنِ الإِحْسَانِ؟:::مجھے اِیمان کے بارے میں  بتایے؟ """،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نےجواباً اِرشاد فرمایا (((((أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لم تَكُنْ تَرَاهُ فإنه يَرَاكَ ::: احسان یہ ہے کہ تُم اللہ کی اِس طرح عِبادت کرو کہ(گویا) تُم اُسے دیکھ رہے ہو اور اگر (تُمسے) ایسا نہ ہو(سکے)تو اتنا(ضرور )ہو کہوہ تُمہیں دیکھ رہا ہے )))))،

اور (پھر) اُس شخص نے (چوتھا سوال پیش کرتے ہوئے )کہا """      فَأَخْبِرْنِى عَنِ السَّاعَةِ؟ ::: مجھے قیامت کے بارے میں بتایے؟ """،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے
جواباً اِرشاد فرمایا (((((مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ::: جِس سے قیامت کے بارے میں سوال کیا جا رہا  ہے وہ  قیامت کے بارے میں سوال کرنے والے سے زیادہ نہیںجانتا )))))،

اور (پھر) اُس شخص نے (پانچواں سوال پیش کرتے ہوئے )کہا """      فَأَخْبِرْنِى عَنْ أَمَارَتِهَا؟ ::: مجھے قیامت کی نشانیوں کے  بارے میں بتایے؟ """،
سول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے
جواباً اِرشاد فرمایا (((((أَنْ تَلِدَ الأَمَةُ رَبَّتَهَا وَأَنْ تَرَىالْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِى الْبُنْيَانِ ::: (قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے) کہ باندی اپنے ہیمالک کو جنم دے ، اور یہ کہ تُم دیکھو کہ ننگے پیروں والے ، کم لباس والے ، بکریوںکے تنگ دست چرواہے اُونچی اُونچی عمارتیں بنانے لگیں)))))،
ر وہ شخص واپس چلا گیا ، توکافی وقت کےبعدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے (مجھے مخاطب فرما کر اِرشاد رمایا (((((يَا عُمَرُ أَتَدْرِى مَنِ السَّائِلُ ؟ ::: اے عُمر کیا تُم جانتے ہو کہسوال کرنے والا کون تھا ؟)))))
میں نے عرض کیا """ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ::: اللہ اور اُس کا رسول ہی سب سے زیادہجانتے ہیں """،
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلمنے اِرشاد فرمایا (((((فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ::: ا یہ تو جبریل
تھے جو تُم لوگوں کو(اس طرح سوال کرنے کی صُورت میں )تُمہارا دِین سکھانے کے لیے آئے تھے))))) صحیح مُسلم/حدیث 102/ کتاب/باب1،یہ واقعہ اسی صحیح مُسلم اور صحیح البخاریمیں ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ ُ سے بھی مروی ہے جِس میں کچھ مختلف الفاظ ہیں ، جواِس مذکورہ بالا روایت کے الفاظ کی وضاحت کرنے والے ہیں ، اور اِس کے عِلاوہ ابوہُریرہ  رضی اللہ عنہ ُ کی روایت  کے آخر ی حصے میں یہ اضافہ ہے کہ  رسول اللہ صلیاللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے قیامت کی نشانیاں بیان فرمانے کے ساتھ یہ بھی فرمایا(((((فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَافِى خَمْسٍ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلاَّ اللَّهُ ::: یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہیں ،(لیکن قیامت کا وقت) اُنپانچ میں ہے جن کا عِلم سوائے اللہ کے اور کسی کے پاس نہیں))))) ، اور اس کے بعد یہ آیت مُبارکہتلاوت فرمائی (((((إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَافِى الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِى نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِى نَفْسٌبِأَىِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ :::بے شک وہ اللہ
ہی ہے جِس کے پاس قیامت(کے قائم ہونے کے وقت) کا عِلم ہے ،اور وہی بارش نازل کرتا ہے ، اور وہی جانتا ہے کہ بچہ دانی میں کیا ہے ، اور کوئیجان یہ نہیں جانتی کہ کل وہ کیا کمائے گی اور کوئی جان یہ نہیں جانتی کہ اُس کیموقت کونسی جگہ واقع ہو گی ، یقیناً اللہ بہت ہی زیادہ عِلم والا ہے(اور)بہت ہی زیادہخبر رکھنے والا ہے)))))صحیح البُخاری/حدیث4777/کتاب  التفیسر/سورت لقمان/باب2، صحیح مُسلم /حدیث 106/ کتاب الاِیمان/باب2،




کیا آپ اس پوسٹ سے متفق ہیں

No comments:

Post a Comment